حسن اخلاق از ✍️ محمد عثمان صدیقی
حسن. اچھائ اور خوبصورتی کو کہتے ہیں. اخلاق جمع ہے خلق کی جس کا معنی ہے. رویہ برتاؤ عادت. یعنی لوگوں کے ساتھ اچھے رویے یا اچھے برتاؤ اچھی عادت کو حسن اخلاق کہا جاتا ہے. جس قوم اور سماج میں خوش اخلاقی نہیں اس کی بنیادیں گویا کھوکھلی ناپائیدار ہیں. انسان نام ہے انسانیت کا اور انسانیت خوش اخلاقی کو کہتے ہیں_
اگر آج دنیا سے خوش اخلاقی ختم ہوجائے تو انسان اور درندوں میں کوئ فرق نہ رہے. خوش اخلاقی انسان کے لئے ایک ایسا سرمایا ہے جس سے ہماری دنیا حیثیت کا نمونہ بن سکتی ہے. خوش اخلاق انسان ہمیشہ دوسروں کے ساتھ محبت اور انسانیت سے پیش آتا ہے. ہم میں سے ہر شخص اچھے برتاؤ اور نیک سلوک کی توقع رکھتا ہے.
خوش اخلاقی انسان کی فطرت میں ایک ایسی شیرینی اور مٹھاس پیدا کردیتی ہے کہ اس کا ہر قول و عمل خوشگوار معلوم ہوتا ہے. اس لئے خوش اخلاق انسان کا وجود انسانی سماج کے لئے اس شہد کی طرح ہوتا ہے جو زندگی کی تلخیوں کو اپنے اثر سے خود شہد بنا دیتا ہے. اچھے اخلاق کی وجہ سے نفرت محبت میں تبدیل ہوجاتی ہے. اور بدترین دشمن بھی انسان کا گرویدہ بن جاتا ہے.
انسان کا انسان سے تعلق باعث سکون ہے اس لئے نفسیاتی طور پر ایک فرد کے نزدیک اس بات کی بڑی اہمیت ہے کہ لوگ اس کے عمل کو کس نظر سے دیکھتے ہیں یہ تمام باتیں انسان کے لاشعور کا حصہ ہوتی ہیں. دین اسلام ایسا پاکیزہ مذہب ہے جو دینی اخلاقی اور معاشرتی معاملات کے ساتھ ساتھ زندگی کے تمام گوشوں میں ہماری رہنمائی کرتا ہے. مخلوق خدا کے ساتھ نرم خوئ لطف و مہربانی سہولت و آسانی اور مشقت کو دور کرنا اچھا اخلاق کہلاتا ہے. لوگ اچھے اخلاق میں ڈھل جائے تو یقیناً معاشرہ جنت کا منظر پیش کرے گا.
بدقسمتی سے آج کے ہمارے اس خزاں رسیدہ معاشرے میں اخلاقیات تہزیب و تمدن اور تربیت و تادیب کے آثار تک نہیں پائے جاتے. بری عادات زہر قاتل اور مہلک ہیں. یہی خصلتیں وخباثتیں ہیں جو رب العالمین کے قرب سے دور کرتی ہیں اور بد اخلاق آدمی کو شیطانوں کے گروہ میں داخل کرتی ہیں. ہم مسلمان اخلاقیات اور معاملات میں ایسی پستی و زوال میں گر چکے ہیں کہ محلہ محلہ لڑائی جھگڑا گالی گلوچ ظلم و زیادتی فتنہ و فساد بغض وعناد حسد وجلن حق تلفی اور مفاد فرستی عام ہے.
منشیات کے بازار ہوس کے اڈے شراب خانے جوا چوری زناکاری رشوت خوری سود بددیانتی جھوٹ خشامد و زیادتی وغیرہ وغیرہ تمام برائیاں سمیٹے ہوئے ہیں اور اگر کچھ پاس نہیں رکھے ہیں تو وہ اچھے اخلاق ہیں. حالانکہ بغیر انسانیت اور خوش اخلاقی کے کوئ انسان انسان کہلانے کا حق نہیں رکھتا. تو اپنے اندر اچھے اور پاکیزہ اخلاق پیدا کر اور برے اخلاق سے بچنے کا اہتمام کریں_
فقط والسلام
0 Comments